تو کیا یہ طے ھے ، کہ اب عمر بھر نہیں ملنا
تو پھر یہ عمر بھی کیوں ، تم سے گر نہیں ملنا
یہ کون چُپکے سے تنہائیوں میں کہتا ھے
تِرے بغیر سُکوں ، عُمْر بھر نہیں ملنا
چلو زمانے کی خاطر , یہ جبْر بھی سہہ لیں
کہ اب مِلے تو ، کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا
رہِ وفا کے مُسافر کو , کون سمجھائے
کہ اِس سفر میں ، کوئی ھمسفر نہیں ملنا
جُدا جب بھی ھُوئے ، دِل کو یوں لگا جیسے
کہ اب گئے تو ، کبھی لوٹر نہیں ملنا
جس کے اک لمس نے مارا تھا وہ آئے تو سہی
شاید اس بار کا چھونا مجھے زندہ کردے
میں نے نیندیں طویل کر لی ہیں
یار ! تم خواب میں ملا کرنا
پہلے کہنا دوست ہیں ہم
پھر محبت میں مبتلا کرنا
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اِس شہر میں سب کچھ ہے بس تیری کمی ہے
سردیوں کی بارش ہے
چھوٹی سی اک خواہش ہے
چائے کا ایک پیالہ ہو
ماضی کا حوالہ ہو
چند بیتے لمحوں کو
یاد کر رہے ہوں ہم
گرج بادلوں کی سُن کر
فریاد کر رہے ہوں ہم
مل جائیں پھر سہانے پل
اپنے وہ بیِتے شیریں کل
جن کی بارشیں تھی کمال
دیتی تھِیں بھُلا سب وبال
سردیوں کی بارش ہے
چھوٹی سی اک خواہش ہے
جس کا کوئی اِنتظار نہ کر رہا ہو
اُسے نہیں معلوم کرنی چاہیئے ...
پھولوں کے ایک دستے کی قیمت!
یا دن، تاریخ اور وقت د"
میں نے ہمیشہ زندگی داؤ پر لگا کر انہیں کو یاد کیا، جن کی یادیں میری سانسوں میں رکاوٹ کا سبب بنتی تھیں!
ملتی ہے ایک بار_____میاں زندگی یہاں
لیکن یہ کیا کہ وہ بھی ہمیں بے تُکی ملے
دنیا میں اور کچھ بھی ملے یا نہیں ملے
من چاہا شخص زندگی میں لازمی ملے
ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب، لگی شرط
دھتکارنے والی ہوں میں سب خواب، لگی شرط
اے شام کے بھٹکے ہوۓ ماہتاب، سنبھل کر
ہے گھات میں بستی کا یہ تالاب، لگی شرط
اچھا تو وہ تسخیر نہیں ہوتا کسی سے؟
یہ بات ہے تو آج سے احباب، لگی شرط
پھر ایک اسے فون میں رو رو کے کروں گی
پھر چھوڑ کے آ جاۓ گا وہ جاب، لگی شرط
اس شخص پہ بس اور ذرا کام کروں گی
سیکھے گا محبت کے وہ آداب، لگی شرط
جو دکھ کی رُتوں میں بھی ہنسی اوڑھ کے رکھیں
ہم ایسے اداکار ہیں نایاب، لگی شرط
جب چاہوں تجھے توڑ دوں میں کھول کے آنکھیں
اے چشمِ اذیت کے برے خواب! لی شرط
تم جس سفر پہ جا رہے
اس کی منزل میں نہیں ہوں
تمہیں بھی معلوم ہے
تو پھر یہ فریب نظر کس لئے ♥️